Sunday, 10 February 2013

article 01

جن پہ ہے اُمت کو ناز


مدینہ منورہ میں ایک نابینا عورت رہتی تھی جس کے گھریلو کام کاج کرنے حضرت عمرؓ آتے تھے۔ چند روز بعد انھیں معلوم ہو اکہ ان سے پہلے کوئی اور شخص آکر عورت کے تمام کام کر جاتا ہے۔ انھیں یہ معلوم کرنے کا اشتیاق ہوا کہ یہ شخص کون ہے؟ ایک شب وہ چھپ کر بیٹھ رہے۔ یہ دیکھ کر ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ وہ شخص حضرت ابوبکر صدیقؓ تھے جو خلیفہ ہونے کے باوجود چھپ کر نابینا عورت کے گھر آتے اور اس کے گھریلو کام کر جاتے تھے۔
ابتدائے اسلام میں سب سے زیادہ شفقت و رحمت والے سیدنا ابوبکرصدیق ؓ ہی تھے۔ آپؓ ایک دیانت دار تاجر اور کپڑوں کا کاروبار کرتے تھے، اس لیے جلد ہی  مال دار بن گئے۔ آپؓ شروع سے حلیم الطبع، نرم دل، غریبوں اور مسکینوں کا خیال کرنے اور اللّٰہ کی راہ میں خرچ کرنے والے تھے۔ جب اسلام لائے تو ان کے پاس چالیس ہزار درہم نقد تھے جو سارے اللّٰہ کی راہ میں خرچ کر دیے۔
غلاموں کی آزادی
حضرت ابوبکر صدیقؓ نے مکہ مکرمہ میں ان غلاموں کو خرید کر آزاد کیا جن پر کفار بے حد ظلم اور جبر کیا کرتے تھے تاکہ وہ دوبارہ کافر ہو جائیں۔ ان غلاموں میں حضرت بلالؓ بن رباح، عامرؓ بن فہیرہ، ابوفقیہہؓ، حضرت لبینہؓ، حضرت زنیرہؓ، حضرت نہدیہؓ اور اُمِ عبیس رضوان اللّٰہ علیہم شامل ہیں۔ سیرت نگار لکھتے ہیں کہ یہ نام ایسے غلاموں کے ہیں جو مشہور تھے ، ان کے علاوہ بھی انھوں نے    بے شمار غلام آزاد کیے۔
ابن دُغنہ کی گواھی
آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کو حبش کی طرف ہجرت کا حکم دیا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ آنحضرتﷺ کی جدائی گوارا نہیں کر سکتے تھے۔ چونکہ یہ ہجرت مصائب و شدائد سے بچنے کے لیے نہیں بلکہ آزادی کے ساتھ عبادتِ الٰہی کرنے اور دعوت و تبلیغ کی غرض سے تھی، اس بنا پر حضرت ابوبکرصدیقؓ نے بھی حبشہ کی جانب ہجرت کا رادہ کرلیا۔ لیکن ابھی برک الغمادجو مکہ سے یمن کی جانب ۵؍ دن کی مسافت پر ہے، پہنچے تھے کہ قبیلہ قارہ کے سردار، ابن دغنہ سے ملاقات ہوگئی۔ ابن دغنہ نے پوچھا ’’ابوبکر کہاں کا رادہ ہے؟‘‘
حضرت صدیقؓ نے کہا ’’میری قوم نے مجھے مکے سے نکال دیا ہے، اس لیے چاہتا ہوں کہ سیاحت کروں اور اپنے رب کی آزادی سے عبادت کروں۔‘‘
ابن دُغنہ بولا ’’تم جیسے شخص کو کیسے شہربدر کیا جا سکتا ہے اور نہ تمھیں وہاں سے نکلنا چاہیے۔ تم غریبوں کو مالی امداد دیتے اور صلہ رحمی کرتے ہو۔ اپاہجوں کا سہارا ہو اور حق کی راہ میں آنے والے حوادث کا مقابلہ کرتے ہو۔ چلو میں تمھیں اپنی پناہ میں لیے واپس مکے لے چلتا ہوں۔ وہاں تم اپنے رب کی آزادی سے عبادت کرنا۔‘‘
چنانچہ ابن دُغنہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کو اپنے ساتھ مکے لے آیا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے اوصاف کا حوالہ دے کر قریش سے کہا ’’غضب خدا کا تم ایسے شخص کو شہر میں رہنے نہیں دیتے۔‘‘
قریش نے کہا کہ اگر وہ چھپ کر عبادت کریں تو وہ ان سے تعرض نہیں کریں گے۔ سو حضرت ابوبکر صدیقؓ کچھ دن تک تو پوشیدہ عبادت کرتے رہے لیکن آخر ان سے رہا نہ گیا اور گھر کے صحن میں مسجد بنالی۔آپ نماز پڑھتے اور قرآن مجید کی بلند آواز میں تلاوت کرتے، تو قریش کی عورتیں، نوجوان اور چرواہے اردگرد جمع ہوجاتے اور اثر لیتے۔ قریشیوں نے ابن دُغنہ سے شکایت کی کہ ابوبکر معاہدے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ ان سے کہو کہ اگر انھیں تمھاری پناہ میں رہنا ہے تو معاہدے کے مطابق عبادت اور تلاوت چھپ کر کریں۔ اگر وہ رضامند نہ ہوں  تو تمھاری پناہ سے دست کش ہو جائیں۔ ابن دُغنہ نے حضرت ابوبکرؓ سے یہی بات کہی۔ آپؓ نے فرمایا:
مجھے تمھاری پناہ کی ضرورت نہیں، اب میں اﷲ کی پناہ میں آتا ہوں۔‘‘
غریب خاندانوں کی مالی امداد
حضرت ابوبکر صدیقؓ ایسے خاندانوں کی مدد کرتے تھے جو معاشی لحاط سے غریب اور نادار ہوں۔ ان میں سے ایک حضرت مِسطحؓ آپ کے خالہ زاد بھائی تھے۔ یہ ہجرت کرکے مدینہ منورہ آئے تو ان کے پاس کچھ نہ تھا۔ لہٰذا ابوبکر صدیق نے ان کا ماہانہ وظیفہ مقرر کردیا۔     حضرت عائشہؓ پر افک کی الزام تراشی ہوئی تو وہ سادگی کی وجہ سے مخالفین میں شامل ہوگئے۔ حضرت ابوبکرؓ کو ان کے رویے سے بہت دکھ پہنچا اور ماہانہ وظیفہ بند کردیا۔ اس پر اﷲتعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
ترجمہ: تم میں سے مالدار اورکشادگی رکھنے والے لوگ قسم نہ کھائیں کہ وہ غریبوں، مسکینوں اور اللّٰہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہیں دیں گے بلکہ ان کو چاہیے کہ معاف کردیں اور درگزر کریں۔ کیا تم پسند نہیں کرتے کہااللہ تمھارے گناہ معاف کر دے۔اﷲ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔24:22
ابوبکرؓ نے جب یہ آیت سنی تو پکار اٹھے ’’ہاں میں چاہتا ہوں کہ اﷲ مجھے معاف کر دے۔‘‘
یہ کہہ کر آپ نے مسطحؓ کا وظیفہ دوبارہ جاری کردیا۔
تفسیر ابن کثیر
بدر کے قیدیوں پر شفقت
ہجرت کے دوسرے سال مسلمانوں اور کفارِ مکہ کے درمیان معرکۂ بدر برپا ہوا۔ اس میں مسلمانوں کو شاندار فتح ملی اور کفار بُری طرح شکست کھا گئے۔ اس میں تقریباً 80 کفار قتل ہوئے اور اِتنے ہی قیدی بنے۔ قیدیوں کے بارے نبی اکرمﷺ نے صحابہ کرامؓ سے رائے طلب فرمائی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ازراہِ شفقت و رحمت اپنی رائے دی ’’یا رسولؐ اللّٰہ! یہ آپ کے رشتے دار اور عزیز و اقارب ہیں، لہٰذا انھیں فدیہ لے کر آزاد کر دیجیے۔‘‘
اس بارے میں مختلف آراء آنے کے بعد فدیہ لے کر انھیں آزاد کر دیا گیا جو حضرت ابوبکرؓ کی رائے کے مطابق تھا۔
جنگی حالات میں رحمت و شفقت
حضرت ابوبکرؓ نے جہاں زمانۂ امن اور عام حالات میں انفرادی و اجتماعی رحمت و شفقت کا مظاہرہ کیا، وہیں حالتِ جنگ میں بھی انسانی جانوں کے احترام، سلامتی اور حفاظت کی تاکید فرمائی۔ ایک لشکر روانہ کرتے وقت آپؓ نے فوجیوں کو اہم نصیحتیں کیں۔ ان میں سے چند کا تذکرہ درج ذیل ہے:
’’اے لوگو! ذرا رُکو، میں تم کو 10 وصیتیں کرنا چاہتا ہوں۔ انھیں اپنے دل میں جگہ دو۔ (1) خیانت نہ کرنا (2) دھوکے سے مال نہ کھانا (3) اپنے امیر کی نافرمانی نہ کرنا (4) کسی کا مثلہ (انسانی جان کی بے حرمتی) نہ کرنا (5) کسی بچے، بوڑھے یا عورت کو قتل نہ کرنا (6) کھجور یا دوسرے پھل دار درخت نہ کاٹنا (7) غذائی ضرورت کے سوا بکری، گائے یا اُونٹ ذبح نہ کرنا (8) تمھارا گزر ایسے لوگوں پر ہوگا جو دنیا چھوڑ کر عبادت گاہوں میں گوشہ نشین ہوگئے ہیں۔ وہ جس اللّٰہ کی رضا کی خاطر خلوت میں بیٹھے ہیں، اس کی خاطر انھیں ہاتھ نہ لگانا (9) تم کو ایسے لوگ بھی ملیں گے جو قسم قسم کے طعام تم کو پیش کریں گے، بار بار ایسے طعام کھا کر اﷲ کو بھول نہ جانا (10) تم کو ایسے لوگ بھی ملیں گے جن کے سر کے بال درمیان سے کٹے ہوئے ہوں گے اور اردگرد چوٹیاں چھوڑ رکھی ہوں گی، ایسے لوگوں کو تلواروں سے ڈرا دینا لیکن قتل نہ کرنا۔ اب اللّٰہ کا نام لے کر آگے بڑھو، اللّٰہ تعالیٰ آپ کو نیزوں اور تلواروں سے محفوظ رکھے۔‘‘ (البدایہ والنہایہ)
یہ نصیحتیں پڑھ کر آج کے جنگی قوانین اور ان کی عملی صورت دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ وہ دور کتنا اعلیٰ و ارفع اور سنہرا تھا۔ اس کا آج تصور کرنا بھی مشکل ہے۔
بے سہارا لوگوں کی دیکھ بھال
حضرت ابوبکر صدیقؓ اگرچہ نہایت جلیل القدر خلیفہ تھے لیکن غریبوں اور ضرورت مند لوگوں کا معمولی کام کرنے میں بھی انھیں دریغ نہ تھا۔ وہ نہایت خاموشی سے ایسے کام کرنے میں مسرت محسوس کرتے تھے۔      مسندِ خلافت پر جلوہ افروز ہونے سے پہلے آپ محلے کی بعض لڑکیوں کی بکریوں کا دودھ دوہتے تھے۔ خلیفہ ہونے کے بعد ایک بھولی بھالی لڑکی کو فکر لاحق ہوئی کہ اب ہماری بکریوں کا دودھ کون دوہے گا؟ حضرت ابوبکرؓ نے سنا تو فرمایا ’’اللّٰہ کی قسم! میں اب بھی بکریوں دوہوں گا، خلافت مجھے خدمتِ خلق سے باز نہیں رکھ سکتی۔
ابن کثیر ص ۲۹۱۔ طبقات ابن سعد
غُربا کا خاص خیال رکھنا
حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں ’’جب اباجان کے انتقال کا وقت قریب آیا تومجھ سے پوچھا، رسول اللّٰہ ﷺ کو کتنے کپڑوں میں کفنایا گیا تھا؟ میں نے کہا، 3 کپڑوں میں۔ آپ اس وقت 2 پرانے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ ان کی طرف اشارہ کرکے فرمایا ’’تو بس میرے یہ دونوں کپڑے کافی ہیں۔ ایک تیسرا کپڑا بازار سے خرید کر مجھ کو کفن دے دینا۔‘‘
میں نے کہا ’’ابا جان! ہم تینوں کپڑے بازار سے خرید سکتے ہیں۔‘‘ ارشاد ہو: ’’بیٹی! زندہ لوگ مُردوں کی نسبت نئے کپڑوں کے زیادہ مستحق ہیں۔ کفن کے دونوں کپڑے تو لہو، پیپ اور خراب ہونے کے لیے ہیں۔ ‘‘
سبحان اللّٰہ! آخری لمحات میں بھی مسکینوں،   حاجت مندوں اور غریبوں کا کتنا خیال تھا۔
صدیق اکبرؓ نے  22جمادی الثانی 13ھ بروز شنبہ (پیر) مغرب اور عشا کے درمیان وفات پائی اور نبی اکرمﷺ کے ساتھ روضۂ اطہر میں دفن ہوئے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کا دورِخلافت 2 سال، 2 ماہ اور چند دن پر مشتمل رہا۔ اس عرصے میں آپ کو ملک و ملت کے گمبھیر مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اگر آپ انھیں خداداد بصیرت، دانش اور نبیﷺ سے ملی ہوئی تعلیم و تربیت سے حل نہ کرتے تو اسلامی حکومت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو سکتا تھا۔ اس لیے آپ کو خدمتِ خلق کا زیادہ موقع نہیں مل سکا۔ پھر بھی اجتماعی اور انفرادی طور پر جو کچھ کیا، اس کی ایک جھلک مذکورہ بالا واقعات میں دیکھی جا سکتی ہے۔
حضرت عمرؓ اور رفاہِ عامہ
اسلامی حکومت کی ابتدائی تاریخ میں جن صحابہ کرام نے خدمتِ خلق اور رفاہِ عامہ کے انفرادی و اجتماعی کام کی بنیادیں رکھیں، ان میں حضرت عمرؓ کا نام سرِفہرست ہے۔ آپؓ نے انفرادی طور پر خدمتِ خلق کا کام کرنے کے ساتھ ساتھ سرکاری سطح پر بھی رفاہِ عامہ کے زبردست کارنامے انجام دیے۔ آپ کے انفرادی کاموں کی تفصیل کم ملتی ہے، تاہم نمونے کے طور پر کچھ واقعات درجِ ذیل ہیں۔
حضرت عمرؓ بن خطاب 583 میں پیدا ہوئے۔ ان کا سلسلہ نسب نبیﷺ سے عدی بن کعب پر ملتا ہے۔ آپ نسب دانی، شہسواری، سپہ گری، پہلوانی اور تقریر کے فن میں بہت مہارت رکھتے تھے۔ آپ نے تجارت کا پیشہ اختیار کیا۔ قریش کی سفارت کاری بھی کی ۔
الفاروق مولانا شبلی
غلاموں کو اھمیت دینا
اکثر غلاموں کو بلا کرآپ ساتھ کھانا کھلایا کرتے۔ حاضرین کو سنا کر کہتے، اللّٰہ اب لوگوں پر لعنت کرے جنھیں غلاموں کے ساتھ کھانے سے عار ہے۔   سردارانِ فوج کو لکھ بھیجا کہ تمھارا کوئی غلام کسی قوم کوامان دے تو وہ امان تمام مسلمانوں کی طرف سے سمجھی جائے گی اور فوج کو اس کا پابند ہونا ہوگا۔
الفاروق مولانا شبلی
غلامی کا رواج کم کرنا
حضرت عمرؓ نے اگرچہ غلامی کو معدوم (بالکل ختم) نہیں کیا لیکن اس میں شبہ نہیں کہ انھوں نے مختلف طریقوں سے یہ رواج کم کردیا۔ جس قدر قائم رکھا، وہ بھی اس خوبی سے کہ وہ غلامی نہیں بلکہ برابری اور ہمسری رہ گئی۔ عرب میں تو انھوں نے سرے سے اس کا استیصال کردیا۔ چنانچہ حکومت سنبھالتے ہی پہلا کام یہ کیا کہ حضرت ابوبکرؓ کے زمانے میں جو عربی قبائل مرتد ہونے کے بعد لونڈی اور غلام بنائے گئے تھے، سب آزاد کر دیے۔ ساتھ یہ اصول قائم کردیا کہ اہلِ عرب کسی کے غلام نہیں ہو سکتے۔ ان کا یہ قول منقول ہے
لَا یُسْتَرقُ عَربِیّ (عربی کو غلام نہیں بنایا جا سکت(
انھوں نے پھر حکم دیا کہ غلاموں کو قریبی عزیزواقارب سے جدا نہ کیا جائے لہٰذا باپ بیٹا، ماں بیٹی اور بیٹا اور سگے بھائی بہنیں ایک ساتھ فروخت ہونے لگے۔ حضرت عمرؓ کا غلاموں کے ساتھ مساوات، احترام اور عزت و برتائو کا نتیجہ تھا کہ غلاموں میں بڑے ائمہ حدیث، فقیہ اور عالم سامنے آئے۔
حضرت عمروبن العاصؓ نے جب مصر میں فسطاط شہر آباد کیا تو سرکاری عمارتوں کے ساتھ ایک مکانِ خاص حضرت عمرؓ کے لیے تعمیر کرایا۔ لیکن حضرت عمرؓ نے لکھ بھیجا ’’یہ میرے کس کام کا ہے؟ اسے کسی اجتماعی کام میں لگایا جائے۔‘‘ چنانچہ وہاں بازار آباد کرایا گیا۔ یہ ان کی اجتماعی سوچ کی ایک جھلک ہے۔
حضرت عمرؓ کے دورِخلافت کی امتیازی خصوصیات میں رفاہِ عامہ کے وہ کام شامل ہیں جو آپ نے بڑے وسیع پیمانے پر کرائے۔ وہ طویل عرصے تک لوگوں کو نفع دیتے رہے۔ یہی کام آنے والے خلفائ، سربراہانِ مملکت اور بادشاہوں کے لیے نمونہ بنے۔ ان میں سے چند ایک کا تذکرہ درج ہے:
الف) نہرابی موسیٰ: بصرہ میں میٹھے پانی کی سخت کمی تھی۔ ۶؍ میل دُور سے پانی لایا جاتا تھا۔ حضرت عمرؓ نے لوگوں کی شکایت پر حضرت ابو موسیٰ اشعری کو دجلہ سے نہر کھود کر پانی لانے کا حکم دیا۔ چنانچہ دجلہ سے ۹؍میل لمبی نہر کھود کر بصرہ لائی گئی اور گھر گھر میٹھا پانی پہنچایا گیا۔
)ب) نہر مَعْقَل: یہ نہر بھی دجلہ سے کاٹ کر لائی گئی۔ اس کی تیاری کا کام معقل بن یسار کے ذمے تھا، اسی لیے ان کے نام سے مشہور ہوگئی۔
)ج) نہر سعد: یہ نہر انبار والوں کے مطالبے پر نکالی گئی۔ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ (وفات 55ھ) نے اپنی گورنری کے زمانے میں حضرت عمرؓ کے حکم پر کھدوائی۔ ان کے نام پر نہر سعد کے نام سے مشہور ہوئی۔
)و) نہر امیرالمومنین (نہر سویز): مصر میں سب سے بڑی مفید نہر جو حضرت عمرؓ کے خاص حکم سے بنی۔ یہ نہر امیر المومنین کے نام سے مشہور ہوئی۔ اسی نہر کے ذریعے دریائے نیل کو بحرِقلزم سے ملایا گیا۔ یہ نہر  49میل لمبی تھی اور 4 ماہ میں تیار ہوگئی۔ یہ تجارتی اور سواری کے جہازوں کے استعمال میں رہی۔ اس سے مصر اور عرب کے لوگوں کو بہت فائدہ ہوا، تجارت بڑھی اور قحط کے دنوں میں اناج پہنچتا رہا۔
عمارتوں کی تعمیر
حضرت عمرؓ نے مملکت میں مختلف نوعیت کی عمارتیں بنوائیں اور مساجد تعمیر کرائیں جن کی تعداد 4 ہزار ہے۔ یوں تو ان عمارتوں میں فوجی چھائونیاں، دفاتر، دارالامارہ، قید خانے وغیرہ شامل تھے مگر ان میں سے صرف ان کا تذکرہ درج ذیل ہے جو رفاہِ عامہ اور سماجی خدمات سے متعلق تھیں۔
مہمان خانے
یہ اس لیے تعمیر ہوئے کہ بیرونِ شہر سے آنے والے مہمان ان میں ٹھہر سکیں۔ کوفہ میں جو مہمان خانہ بنا، اس کی نسبت احمد بلاذری (وفات 892) نے لکھا ’’انھوں (حضرت عمرؓ) نے حکم دیا کہ جو لوگ دُور دراز علاقوں سے آتے ہیں، ان کے قیام کے لیے مکان بنایا جائے۔‘‘ (فتوح البلدان) مدینہ منورہ میں مہمان خانہ  17ہجری میں تعمیر ہوا۔ ابن حبان نے کتاب الشقاہ میں اس کا تذکرہ کیا ہے۔ یہ علم میں رہے کہ تب سادگی کا زمانہ تھا، لہٰذا یہ تمام عمارتیں کچی تھیں۔
سڑکوں اور پلوں کا انتظام
حضرت عمرؓ نے رفاہِ عامہ کے لیے سڑکیں اور پل بنانے کا خاص اہتمام کیا۔ یہ کام 2 طریقوں سے کیا گیا۔ ایک بیت المال کے ذریعے، دوسرا مفتوحہ اقوام کی طرف سے۔ ان قوموں سے باقاعدہ معاہدہ ہوتا کہ وہ سڑک، پل وغیرہ اپنے خرچ سے بنوائیں گی۔ حضرت ابو عبیدہؓ نے شام فتح کیا تو شرائط میں یہ کام بھی شامل تھا۔
مکہ سے مدینہ تک چوکیاں اور سرائیں
مکہ مکرمہ اگرچہ مدتوں سے قبلہ گاہ خلائق تھا لیکن اس کے راستے ویران اور بے آب و گیاہ تھے۔ حضرت عمرؓ  17ہجری میں جب مکہ مکرمہ گئے تو انھیں یہ ویرانی محسوس ہوئی۔ چنانچہ آپ نے ہر منزل پر چوکیاں، سرائیں اور چشمے تیار کرنے کا حکم صادر کیا۔ شاہ ولی اللّٰہؓ نے ازالۃ الخفاء میں لکھا ہے:
جس سال حضرت عمرؓ نے عمرے کی غرض سے  مکہ مکرمہ کا سفر کیا تو واپسی پر حکم دیا کہ وہ سفری منزلیں جو حرمین کے درمیان ہیں، ان میں سایہ و آرام کرنے کے لیے جگہ کا بندوبست کیا جائے۔ وہ کنوئیں جو مٹی سے اَٹ گئے ہیں، انھیں صاف کیا جائے اور جہاں پانی کے کنوئیں نہیں، وہاں کنوئیں کھودے جائیں تاکہ حجاج کو سفر میں سہولتیں حاصل ہوں۔‘‘
آپ نے اکثر شہروں میں لنگرخانے تعمیر کرائے جہاں مسافروں کو بیت المال کی طرف سے کھانا ملتا تھا۔ مدینہ منورہ میں جو لنگر خانہ تھا، اکثر وہاں خود جا کر اپنے اہتمام سے کھانا کھلواتے۔
غریبوں اور مسکینوں کے لیے وظیفے
حضرت عمرؓ نے اہتمام کیا تھا کہ مسکینوں میں جس قدر اپاہج، بوڑھے اور مفلوج وغیرہ ہوں، ان کے لیے تنخواہیں بیت المال سے مقرر کر دی جائیں۔ چنانچہ ہزاروں شہریوں کو گھر بیٹھے خوراک ملنے لگی۔ یہ وظیفہ ان کی غذائی ضروریات کے لیے کافی تھا۔ اس پر ایک شخص نے کہا کہ کیا غلام کے لیے بھی؟ فرمایا ’’ہاں غلام کے لیے بھی۔‘‘ غربا اور مساکین کے لیے بلاتخصیص مذہب حکم تھا کہ بیت المال سے ان کے روزینے (وظیفے) مقرر کیے جائیں۔ انھوں نے بیت المال کے عامل کو لکھ کر بھیجا کہ خدا کے اس قول کہ’’ انما الصدقات للفقراء والمساکین‘‘ میں فقراء سے مسلمان اور مساکین سے اہلِ کتاب مراد ہیں۔
گمنام بچوں کو مائیں شاہراہ پر ڈال جاتی تھیں۔ ان کے لیے ۱۸؍ہجری میں یہ انتظام کیا کہ جہاں اس قسم کا کوئی  لاوارث بچہ ملے، اس کے دودھ پلانے اور دیگر مصارف کا انتظام بیت المال سے کیا جائے۔ چنانچہ ان مصارف کے لیے 100 درہم سالانہ مقرر ہوئے۔ پھر سال بہ سال ان میں اضافہ ہو جاتا۔
یتیموں کی پرورش کے لیے اگر ان کی جائیداد ہوتی، تو اس کی حفاظت کا نہایت اچھا اہتمام کرتے۔ اکثر تجارت کے ذریعے اسے ترقی دیتے۔ ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے  حکم بن ابی العاص سے کہا ’’میرے پاس یتیموں کا جو مال جمع ہے وہ زکوٰۃ نکالنے کی وجہ سے گھٹتا جا رہا ہے۔ تم اس کو تجارت میں لگائو اور جو نفع ہو، واپس کردو۔‘‘ چنانچہ 10 ہزار کی رقم حوالے کی جو بڑھتے بڑھتے لاکھ تک پہنچ گئی۔
قحط میں انتظام
17ہجری میں جب عرب میں قحط پڑا تو حضرت عمرؓ خدمتِ خلق کے کاموں میں ہمہ تن مصروف رہے۔ اوّل بیت المال کا تمام نقد و غلہ صرف کیا۔ پھر صوبوں کے افسروں کا لکھا کہ ہر جگہ سے غلہ روانہ کیا جائے۔ چنانچہ حضرت ابوعبیدہؓ نے 4 ہزار اونٹ غلے سے لدے بھیجے۔ حضرت عمروؓ بن العاص نے بحرِ قلزم کی راہ سے20 جہاز روانہ کیے۔ حضرت عمرؓ ان جہازوں کو ملاحظہ کرنے خود بندرگاہ تشریف لے گئے جو مدینہ منورہ سے 3 منزل پر واقع تھی۔ بندرگاہ میں 2 بڑے بڑے مکان بنوائے اور زیدؓ بن ثابت کو حکم دیا کہ قحط زدوں کا نقشہ بنائیں۔
چنانچہ ناموں اور مقدار غلہ کا رجسٹر تیار ہوا۔ ہر شخص کو چیک (پرچہ) تقسیم کیا گیا جس کے مطابق اسے روزانہ غلہ ملتا۔ چیک پر حضرت عمرؓ کی مہر ثبت ہوتی۔ اس کے علاوہ ہر روز  20اونٹ خود اپنے اہتمام سے ذبح کراتے اور   قحط زدوں کو کھانا پکوا کر کھلاتے۔ یہ واضح رہے کہ  حضرت عمرؓ  کو اگرچہ شہریوں کی پرورش اور پرداخت کا بہت خیال تھا لیکن ان کی فیاضی ایسی نہ تھی جس کے باعث کاہلی اور مفت خوری کو رواج ملتا ہے۔
حضرت عمرؓ کی نکتہ سنجی
ایشیائی سلاطین و امرا کی فیاضیوں کا ذکر عموماً بڑے ذوق و شوق سے کیا جاتا ہے۔ لیکن لوگ یہ خیال نہیں کرتے کہ اس سے جہاں بادشاہ کی مدح نکلتی ہے، دوسری قوم دریوزہ گر (بھکاری) ہو جاتی اور انعام و بخشش پر لو لگائے بیٹھے رہتی۔ یہی فیاضیاں تھیں جس نے ہماری قوم میں ایسے لاکھوں لوگ پیدا کر دیے جو ہاتھ پائوں ہلانا نہیں چاہتے اور نذرونیاز وغیرہ پر اوقات بسر کرتے ہیں۔
لیکن حضرت عمرؓ اس حقیقت سے بے خبر نہ تھے۔ چنانچہ وہ سخت کوشش کرتے کہ لوگوں میں کاہلی اور    مفت خوری کا مادہ پیدا نہ ہونے پائے۔ انھوں نے جن لوگوں کی تنخواہیں اور خوراک مقرر کی، وہ ایسے لوگ تھے جن سے کبھی فوجی خدمت کی توقع ہو سکتی تھی یا جنھوں نے پہلے کوئی نمایاں خدمت دی تھی اور اب وہ ضعف اور بیماری کی وجہ سے خود کسب معاش نہیں کر سکتے تھے۔اس کے علاوہ وہ کسی اور قسم کی فیاضی روا نہیں رکھتے تھے۔    علامہ ماوردی نے الاحکام السلطانیہ میں لکھا ہے کہ محتسب کا فرض ہے کہ ایسے لوگوں کو جو کھانے کمانے کے قابل ہونے کے باوجود صدقہ اور خیرات لیتے ہوں، تنبیہ و تادیب کرے۔ اس کے بعد علامہ موصوف نے اس کی سند میں حضرت عمرؓ کے عمل سے استدلال کیا۔
آپ کا معمول تھا کہ جب کسی شخص کو ظاہر میں خوشحال دیکھتے تو دریافت فرماتے، یہ کوئی پیشہ بھی کرتا ہے؟ جب لوگ کہتے کہ نہیں، تو فرماتے، یہ شخص میری آنکھ سے گر گیا۔ ان کا مقولہ تھا ’’ذلیل پیشہ بھی لوگوں سے سوال کرنے کے بہ نسبت اچھا ہے۔‘‘ علماء کو انھوں نے علانیہ مخاطب کرکے کہا ’’مسلمانوں پر اپنا بار نہ ڈالو۔‘‘
)سیرۃ العمرین لابن الجوزی(
جزُیات پر توجہ
حضرت عمرؓ کی زندگی یہ عجیب بات عیاں کرتی ہے کہ اگرچہ انھیں ہمیشہ بڑے اہم امور سے سابقہ رہا، تاہم چھوٹے چھوٹے کام بھی وہ خود انجام دے لیتے ۔ اس کے لیے ان کو وقت اور فرصت کی تنگی محسوس نہ ہوتی۔ ان میں ایسے کام بھی شامل ہوتے جن کا اختیار کرنا بظاہر     شانِ خلافت کے خلاف تھا لیکن آپؓ عار محسوس نہ کرتے۔
مثال کے طور پر ضرورت مندوں کے جو روزینے مقرر تھے، اکثر خود جا کر تقسیم کرتے۔ مدینہ سے کئی منزل کے فاصلے پر 2 قصبے قبیلہ خزاعہ کے لوگ آباد تھے۔ آپ ان دونوں مقامات پر خود تشریف لے جاتے۔ روزینہ داروں کا دفتر ہاتھ میں ہوتا۔ آپ کو دیکھ کر چھوٹے بڑے سب لوگ گھروں سے نکل آتے۔ حضرت عمرؓ خود اپنے ہاتھ سے روزینے تقسیم کرتے۔ اکثر ایسا ہوتا کہ دارالصدقہ میں جاتے، ایک ایک اونٹ کے پاس کھڑے ہو کر دانت گنتے اور ان کا حلیہ قلم بند فرماتے۔
طبری نے ابو حذیفہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ ان کا معمول تھا، مجاہدین کے گھر جاتے اور عورتوں سے کہتے کہ کچھ بازار سے منگوانا ہو تو لادوں؟ وہ لونڈیاں ساتھ کر دیتیں۔ حضرت عمرؓ خود چیزیں خریدتے اور ان کے حوالے کرتے۔ میدانِ جنگ سے قاصد آتا اور لشکریوں کے خطوط لاتا تو خود ان کے گھر پہنچا آتے اور کہتے، فلاں تاریخ تک قاصد واپس جائے گا، جواب لکھوا رکھو تاکہ روانہ ہو جائے۔ کاغذ، قلم اور دوات خود مہیا کر دیتے۔ جس گھر میں کوئی حرف شناس نہ ہوتا، خود چوکھٹ کے پاس بیٹھتے اور گھر والے جو لکھواتے، لکھتے جاتے۔
حضرت عمرؓ نے انسانی فطرت، ضرورت اور خواہش کا لحاظ کرتے ہوئے فوجیوں، مجاہدوں اور سرکاری کاموں میں گھروں سے دور رہنے والوں کو 4 ماہ بعد چھٹی دینے کا رواج شروع کیا تاکہ وہ اپنے گھر والوں کی خیروعافیت معلوم کرنے اور اُن کے ساتھ رہنے آ سکیں۔
رعایا کی شکایتوں سے واقفیت
حضرت عمرؓ کی سب سے زیادہ توجہ اس بات پر مبذول رہتی تھی کہ رعایا کی ہر شکایت ان تک پہنچ جائے۔ یہ معمول بنا رکھا تھا کہ ہر نماز کے بعد صحنِ مسجد میں بیٹھ جاتے۔ جس کو ان سے جو کہنا سننا ہوتا، کہہ دیتا۔ کوئی نہ ہوتا تو تھوڑی دیر انتظار کرکے اٹھ جاتے۔
کنز العمال جلد دوم 230
راتوں کو دورے کیا کرتے۔ سفر میں راہ چلتوں سے حالات پوچھتے۔ بیرونی اضلاع سے جو سرکاری قاصد آتے، ان سے ہر قسم کی پرسش خود کرتے۔
اضلاع سے ہر سال سفارتیں آتی تھیں، انھیں وفد کہتے تھے۔ یہ عرب کا قدیم دستور تھا لیکن حضرت عمرؓ نے اپنے زمانے میں سفارتوں سے وہ کام لیا جو آج کل جمہوری سلطنتوں میں رعایا کے نمائندے انجام دیتے ہیں۔ یعنی آپ وفد کے علاقے سے متعلق سوالات پوچھتے اور تمام ضروری معلومات لیتے۔
شام کا سفر اور رعایا کی خبرگیری
ان تمام باتوں پر بھی تسلی نہ ہوتی، فرماتے ’’عمال رعایا کی پروا نہیں کرتے اور ہر شخص مجھ تک پہنچ نہیں سکتا۔‘‘ اس بنا پر ایک بار ارادہ کیا کہ شام، جزیرہ، کوفہ اور بصرہ کا دورہ کریں اور ہر جگہ دو دو مہینے ٹھہریں لیکن موت نے فرصت نہ دی۔ تاہم آخری مرتبہ جب شام کا سفر کیا تو ایک ایک ضلع ٹھہر کر لوگوں کی شکایتیں سنیں اور داد رسی کی۔ اس سفر میں ایک عبرتناک واقعہ پیش آیا۔ دارالخلافہ واپس آ رہے تھے کہ راہ میں ایک خیمہ دیکھا۔ سواری سے اتر کر خیمہ کے قریب گئے تو ایک بوڑھی عورت نظر آئی۔ اس سے پوچھا ’’عمر کا کچھ حال معلوم ہوا؟‘‘
اس نے کہا ’’ہاں شام سے روانہ ہوچکا لیکن اﷲ اس کو غارت کرے، آج تک مجھے اس کے ہاں سے ایک جُبہ بھی نہیں ملا۔‘‘
حضرت عمرؓ نے کہا ’’اتنی دور کا حال عمر کو کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟‘‘
بولی ’’اس کو رعایا کا حال معلوم نہیں تو خلافت کیوں کرتا ہے؟‘‘
حضرت عمرؓ یہ سن کر بے اختیار رو پڑے۔
کتبِ تاریخ میں ایسے واقعات درج ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ رعایا کے آرام و آسایش اور خبر گیری میں انھیں کس قدر سرگرمی اور ہمدردی تھی۔
٭٭
بچوں کے لیے روزینے
ایک مرتبہ ایک قافلہ مدینہ منورہ میں آیا اور شہر کے باہر اترا۔ اس کی خبرگیری اور حفاظت کے لیے خود تشریف لے گئے۔ پہرہ دیتے پھرتے تھے کہ ایک طرف سے رونے کی آواز آئی۔ ادھر متوجہ ہوئے۔ دیکھا، ایک شیرخوار بچہ ماں کی گود میں رو رہا تھا۔ ماں کو تاکید کی کہ بچہ بہلائے۔ تھوڑی دیر بعدپھر ادھر سے گزر ہوا تو بچے کو دوبارہ روتا پایا۔ غیظ میں آ کر فرمایا ’’تو بڑی بے رحم ماں ہے۔‘‘
اس نے کہا ’’تم کو اصل حقیقت معلوم نہیں خواہ مخواہ مجھے دِق کرتے ہو۔ بات یہ ہے کہ عمرؓ نے حکم دیا ہے، بچے جب تک ماں کا دودھ نہ چھوڑیں، بیت المال سے ان کا وظیفہ مقرر نہ کیا جائے۔ میں اس غرض سے اس کا دودھ چھڑاتی ہوں اور یہ اس وجہ سے روتا ہے۔‘‘
حضرت عمرؓ یہ سن کر غمگین ہوگئے اور اپنے آپ سے فرمایا ’’ہائے عمر! تو نے کتنے بچوں کا خون کیا ہوگا؟‘‘
انھوں نے پھر اسی وقت منادی کرادی ’’بچے جس دن سے پیدا ہوں، اسی تاریخ سے ان کے روزینے مقرر کر دیے جائیں۔‘‘
بچوں کی بھوک کی فکر
حضرت عمرؓ کے غلام اسلم کا بیان ہے، ایک مرتبہ آپؓ رات کو گشت کرنے نکلے۔ مدینہ سے 3 میل پر صرار نامی ایک مقام ہے۔ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ایک عورت کچھ پکا رہی ہے اور دو تین بچے رو رہے ہیں۔ قریب جا کر  حقیقتِ حال دریافت فرمائی۔ اس نے کہا کہ کئی وقت سے بچوں کو کھانا نہیں ملا۔ انھیں بہلانے کے لیے خالی ہانڈی میں پانی ڈال کر چڑھا دیا ہے۔ حضرت عمرؓ اسی وقت اُٹھے، مدینہ میں آ کر بیت المال سے آٹا، گوشت، گھی اور کھجوریں لیں اور اسلم سے کہا کہ میری پیٹھ پر رکھ دو۔ اسلم نے کہا کہ میں لیے چلتا ہوں، فرمایا ’’لیکن قیامت کے روز میرا بار تم تو نہیں اٹھائو گے۔‘‘
غرض سب چیزیں خود اٹھا کر لائے اور عورت کے آگے رکھ دیں۔ اس نے آٹا گوندھا اورہانڈی چڑھائی۔ حضرت عمرؓ خود چولھا پھونکتے جاتے۔ کھانا تیار ہوا تو بچوں نے خوب سیر ہو کر کھایا اور اچھلنے کودنے لگے۔ حضرت عمرؓ بچوں کو دیکھتے اور خوش ہوتے۔ عورت نے کہا ’’خدا تم کو جزائے خیر دے۔ سچ یہ ہے کہ امیرالمومنین ہونے کے قابل تم ہو نہ کہ عمرؓ!‘‘
٭٭
اھلیہ کے ساتھ خدمتِ خلق
ایک مرتبہ رات کو گشت کر رہے تھے کہ ایک بدو کو خیمہ سے باہر زمین پر بیٹھا دیکھا۔ پاس جا کر بیٹھے اور اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے لگے۔ دفعۃً خیمے سے رونے کی آواز آئی۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا کہ کون روتا ہے؟ اس نے کہا، میری بیوی دردِزہ میں مبتلا ہے۔ حضرت عمرؓ گھر آئے اور اپنی اہلیہ، حضرت ام کلثومؓ کو ساتھ لیا۔ بدو سے اجازت لے کر انھیں خیمے میں بھیجا۔ تھوڑی دیر بعد بچہ پیدا ہوا۔ اُم کلثوم نے حضرت عمرؓ کو پکارا کہ امیرالمومنین، اپنے دوست کو مبارک باد دیجیے۔ امیرالمومنین کا لفظ سن کر بدو چونک پڑا اور مؤدب ہو کر بیٹھا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا، ’’کچھ خیال نہ کرو۔ کل میرے پاس آنا، اس بچہ کی تنخواہ مقرر کر دوں گا۔‘‘
٭٭
رعایا کی حفاظت کا خیال
حضرت عبدالرحمٰنؓ بن عوف کا بیان ہے، ایک مرتبہ حضرت عمرؓ رات کو میرے مکان پر آئے۔ میں نے کہا، آپ نے کیوں تکلیف کی، مجھ کو بلا لیا ہوتا؟ فرمایا ’’ ابھی معلوم ہوا ہے، شہر سے باہر ایک قافلہ اترا ہے۔ لوگ  تھکے ماندے ہوں گے، آئو چل کر پہرہ دیں۔‘‘ چنانچہ دونوں اصحاب گئے اور رات بھر پہرہ دیتے رہے۔
٭٭
قحط میں حالت
جس سال عرب میں قحط پڑا، حضرت عمرؓ کی عجیب حالت ہوئی۔ جب تک قحط رہا، گوشت، گھی، مچھلی غرض کوئی لذیذ چیز نہ کھائی۔ نہایت خضوع سے دعائیں مانگتے ـ ’’اے اللّٰہ! محمدﷺ کی امت کو میری شامتِ اعمال سے تباہ نہ کرنا۔‘‘
آپؓ کے غلام اسلم کا بیان ہے، قحط کے زمانے میں حضرت عمرؓ کو جو فکروتردد رہتا تھا، اس سے قیاس کیا جاتا کہ اگر قحط ختم نہ ہوا تو وہ اسی غم میں تباہ ہو جائیں گے۔
کنزالعمال جلد 4 243
معذوروں کی فکر
حضرت سعیدؓ بن یربوع ایک صحابی تھے۔ ان کی آنکھیں جاتی رہیں۔ حضرت عمرؓ نے ان سے کہا، آپ جمعہ میں کیوں نہیں آتے؟ انھوں نے کہا، میرے پاس آدمی نہیں کہ مجھ کو راستہ بتائے!
حضرت عمرؓ نے ایک آدمی مقرر کردیا جو ہمیشہ ان کے ساتھ ساتھ رہتا تھا۔
(اسد الغابہ، تذکرہ سعدؓ بن یربوع)
ایک مرتبہ لوگوں کو کھانا کھلا رہے تھے، ایک شخص کو دیکھا کہ بائیں ہاتھ سے کھا رہا ہے۔ قریب جا کر کہا کہ داہنے ہاتھ سے کھائو۔ اس نے کہا کہ جنگِ موتہ میں میرا دایاں ہاتھ جاتا رہا۔ حضرت عمرؓ کو رِقت ہوئی۔ اس کے برابر بیٹھ گئے ، رونے لگے اوربولے، افسوس تم کو وضو کون کراتا ہوگا؟ سر کون دھوتا ہوگا؟ کپڑے کون دھوتا ہوگا؟ پھر ایک نوکر مقرر کردیا اور اس کے لیے تمام ضروری چیزیں خود مہیا کر دیں۔ یہ اور اس قسم کے بہت سے واقعات حضرت عمرؓ کی انفرادی اور اجتماعی سماجی خدمات واضح کرتے ہیں۔


آخر امیر ہیں کون


پچھلے سال پوری دنیا میں امرا اور طاقتور شخصیات کے خلاف عوامی مظاہرے ہوئے۔ یقینا سبھی امرا ان کا نشانہ نہیں تھے کیونکہ اس گروہ میں بل گیٹس، وارن بفٹ اور کئی دوسرے کھرب و ارب پتی شامل ہیں جو غریبوں کی فلاح و بہبود پر سالانہ اربوں روپے خرچ کرتے ہیں لیکن عوامی مظاہروں نے سبھی امیروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لفظ ’’امیر‘‘ کو نئے معنی عطا کردیے۔ یہی نہیں، مظاہرین نے ’’بینکار‘‘ کی تشریح بھی بدل ڈالی اور لغت میں 2 نئے الفاظ ’’ا؍فیصد‘‘ اور ’ 99فیصد‘‘ کا اضافہ کیا۔
دنیا کے ’’امیر معروف معنوں میں جس کے پاس کثیر رقم ہو، وہ امیر کہلاتا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس لفظ کی کوئی معین تشریح نہیں۔ کیونکہ رشوت لینے، ڈاکہ ڈالنے اور ناجائز طریقوں سے دولت کمانے والا بھی امیر کہلاتا ہے اور وہ کاروباری یا صنعت کار بھی جو حلال طریقوں اور محنت سے دولت کمائے۔ بعض ماہرین کے خیال میں امیر وہ ہے جس کے پاس ’’ضرورت سے زیادہ‘‘ رقم ہو۔ لیکن پھر ضرورتوں کی تشریح میں بڑا اختلاف ہے۔
امریکا، برطانیہ اور یورپ میں امارت کا ایک پیمانہ یہ ہے کہ جو شخص زیادہ ٹیکس ادا کرے، یعنی سالانہ چار پانچ کروڑ روپے تک، وہ امرا کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔ ایک اور پیمانہ ’’آمدن‘‘ ہے۔ برطانیہ میں لوگوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ اگر وہ سالانہ 2 کروڑ روپے کما لیں، تو خود کو امیر سمجھیں گے۔
پاکستان میں جو شخص کار رکھے، بڑے گھر میں رہے، بیش قیمت کپڑے پہنے اور قیمتی اشیا استعمال کرے، وہ امیر سمجھا جاتا ہے۔ چاہے اس نے دولت کسی بھی طریقے سے کمائی ہو۔ جبکہ پوری دنیا میں کسی آدمی کا کاروباری یا صنعت کار ہونا بھی امارت کی نشانی ہے، چاہے وہ پان کے کھوکھے کا مالک ہو یا ملٹی نیشنل کمپنی سنبھالتا ہو۔
2011 کے موسم گرما میں برطانوی نوجوان نسل نے لندن اور برطانیہ کے دیگر شہروں میں ہنگامہ مچایا اور کئی دکانیں لوٹ لیں۔ جب پولیس نے 2 لٹیرے گرفتار کیے، تو انھوں نے بتایا ’’ہم امیروں کو دکھانا چاہتے ہیں کہ ہم جو چاہیں، کر سکتے ہیں‘‘۔ لیکن نوجوانوں نے ہر اس شخص کو امیر قراردیا جو دکان کا مالک ہو۔
بہرحال یہ حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں آمدنی کی تقسیم میں عدم مساوات نے امیر کو منفی معنی دے ڈالے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 2008 میں امریکی صدارتی امیدوار،  جان میکن نے خود کو امیر تسلیم کرنے سے انکار کردیا، حالانکہ وہ کئی عالیشان گھروں کا مالک ہے۔
دوسری طرف دنیا میں امرا کی تعداد بھی روزبروز بڑھ رہی ہے۔ صرف ایک ڈیڑھ سو سال پہلے ہر ملک میں امیر خال خال ملتے تھے۔ یہ امیر عموماً حکمران طبقے سے تعلق رکھتے اور نواب، جاگیردار یا سردار ہوتے۔ جب وہ چل بستے، تو ان کی اولاد وراثت میں ملی جائیداد کے بل پر امیر بن بیٹھتی۔ پاکستان میں صرف 50 سال قبل’’لکھ پتی‘‘ بڑی شے سمجھا جاتا تھا۔ لیکن آج پاکستانی شہروں میں ہزارہا لکھ پتی ملتے ہیں۔
امریکا کا رسالہ فوربس ہر سال دنیا کی امیرترین شخصیات کی فہرست چھاپتا ہے۔ فہرست میں صرف  سرمایہ دار، کاروباری اور صنعت کار شامل ہوتے ہیں۔ اگر ان میں حکمران (بادشاہوں وغیرہ)، سرکاری افسروں اور جاگیرداروں کو بھی ملا لیا جائے تو دنیا میں کم از کم  3 ہزار کھرب /ارب پتی ضرور موجود ہیں۔
امارت کا ایک اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ صدی قبل صرف حکمران طبقہ ہی امیر تھا۔ لیکن آج ہزارہا کاروباری، صنعت کار اور سرمایہ کار امیر بن چکے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام انگریزی لغات میں لفظ امیر کے معنی بھی بدل گئے ہیں۔
آکسفورڈ انگریزی لغت میں ’’رچ  (Rich) یعنی امیر دیکھا جائے، تو شریف، طاقتور، عظیم جیسے الفاظ سامنے آتے ہیں۔ لیکن ظاہر ہے 300 سال پرانے ان اینگلوسیکسن معنی کا اطلاق اب لفظ امیر پر نہیں ہوتا۔ تاہم آگے درج معنی تعریف پر کچھ پورے اترتے ہیں: بہت زیادہ دولت رکھنا یا جائیدادرکھنا، بااثر اور پیسے والا۔
ماہرین کی رو سے دنیا بھر میں غریب اور متوسط طبقہ امرا کے خلاف اس لیے اُٹھ کھڑا ہوا کیونکہ وہ اب اپنی ضرورتیں بہ آسانی پوری نہیں کر پا رہے۔ چنانچہ جب تک غریبوں کوترقی کرنے اور خوشحال ہونے کے مواقع حاصل رہیں، غریب امیر کی تقسیم نمایاں نہیں ہوتی۔
1 فیصد اور  99 فیصد
ماہِ ستمبر میں جب نیویارک میں وال اسٹریٹ    قبضہ تحریک کا آغاز ہوا، تو وہ دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں مقبول ہوگئی۔ اس تحریک سے وابستہ خصوصاً 2 اصطلاحیں ’ 1فیصد‘‘ اور ’’ 99فیصد‘‘ بچوں کی زبان پر بھی چڑھ گئیں۔
99 فیصد سے مراد دنیا کا غریب اور متوسط طبقہ ہے اور مظاہرین کے نزدیک ۱فیصد امیر طبقہ ان کا استحصال کر رہا ہے۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا، سارے امیرطبقے کو دنیا میں پائی جانے والی ناانصافی، غربت، جہالت وغیرہ کا مرتکب نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ تاہم کئی تحقیقی اطلاعات سے یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ تقریباً ہر ملک میں دولت کا بیشتر حصہ مٹھی بھر لوگوں یعنی امرا کے پاس جمع ہے۔ مثال کے طور پر امریکا کے انتہائی امیر 1 فیصد کل امریکی سرمائے میں سے  25 فیصد کے مالک ہیں۔
برطانیہ کا ایک ادارہ، گلوبل لینگوئج مانیٹر ان انگریزی الفاظ کی فہرست جاری کرتا ہے جو ایک سال میں سب سے زیادہ شہرت پائیں۔ ادارے کی تازہ فہرست میں ’’آکوپائے (Occupy) یعنی قبضہ سال 2011 میں اخبارات اور انٹرنیٹ میں مقبول ترین لفظ رہا۔ نیز ’’ 1فیصد‘‘ اور ’’ 99 فیصد‘‘ بھی پہلے 10 مقبول ترین الفاظ میں شامل رہے۔ اُمید ِواثق ہے کہ یہ دونوں لفظ انگریزی لغات کا بھی حصہ بن جائیں گے۔
لیکن لفظ امیر کے مانند درج بالا دونوں الفاظ کی تشریح بھی واضح نہیں۔ بڑی خامی یا خرابی یہی ہے کہ ضروری نہیں،  1 فیصد میں شامل تمام دولت مند ہوس ناک، لالچی، پیسے کے پجاری وغیرہ ہوں جیسا کہ عموماً سمجھا جاتا ہے۔ پھر خصوصاً ترقی یافتہ ممالک میں متوسط طبقہ بڑا خوشحال ہے۔ ترقی پذیر ملکوں کے متوسط طبقے کے سامنے تو اسے امیر ہی سمجھا جائے گا۔
ترقی یافتہ ممالک میں دراصل متوسط طبقہ اس بات پرامرا سے ناراض ہے کہ پچھلے 10 سال میں  1فیصد میں شامل ہر شخص… سرمایہ دار، کھلاڑی، نجی و سرکاری ملازم، کاروباری، صنعت کار، اداکار وغیرہ کی آمدن میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ مثلاً 2001 میں برطانیہ کا مشہور فٹ بال کلب، مانچسٹر یونائیٹڈ اپنے ایک کھلاڑی کو سالانہ ساڑھے 3 لاکھ پونڈ ادا کرتا تھا۔ اب یہ رقم  10لاکھ تک آ پہنچی ہے۔ اسی طرح امریکہ میں 2011 میں ایک اچھے بیرسٹر کی آمدن 4 لاکھ ڈالر تھی، وہ اب 8 لاکھ ڈالر کماتا ہے۔ غرض یہ حقیقت ہے کہ 1 فیصد طبقے کی آمدن پچھلے ایک عشرے میں ہوش ربا طور پر بڑھی ہے۔
لیکن یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ کاروبار ایسی شے ہے جو کامیاب ہونے پر سرمایہ بہت تیزی سے دگنا بلکہ چوگنا کر دیتا ہے۔ لہٰذا کوئی کاروباری محنت، دیانت اور جائز طریقوں کے بل بوتے پر اپنا کاروبار اور سرمایہ انتہائی رفعتوں تک لے جائے، تو یقینا اس کی ترقی و کامیابی کو حسد یا نفرت نہیں رشک کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیے۔ ماہرین بھی کہتے ہیں کہ متوسط و غریب طبقوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے۔
بینکار
وال اسٹریٹ قبضہ تحریک کے مظاہروں میں لوگوں نے سب سے زیادہ بینکاروں کو ہی تنقید اور نفرت کا نشانہ بنایا۔ وجہ یہ ہے کہ خصوصاً ترقی یافتہ ممالک میں بینکار وہ شخص ہے جو اس وقت بھی ڈالر کماتا ہے جب معاشی بحران جاری ہو۔ بلکہ تب بینکاروں کا منافع بڑھ جاتا ہے کیونکہ دیوالیہ ہوتے نجی و سرکاری اداروں کو بینکوں کی مدد درکار ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پچھلے 3 برس میں مغربی ذرائع ابلاغ میں بینکار کے ساتھ جو 2 فعل سب سے زیادہ استعمال ہوئے، وہ ’’ڈس گریس  (Disgrace) یعنی بدنام و رسوا اور ’’شیم  (Shame) یعنی شرمندگی ہیں۔ اسی طرح مغربی اخبارات و انٹرنیٹ میں لفظ بینکار کے ساتھ جو صفت سب سے زیادہ استعمال ہوئی، وہ ’’گریڈی  (Greedy) یعنی لالچی ہے۔
درج بالا 3 مقبول اصطلاحوں کے علاوہ طبقہ امرا کے خلاف حالیہ عوامی مظاہروں نے 2 اور انگریزی الفاظ کو بھی مشہور کردیا۔ یہ ’’سکوئیزڈ مڈل‘‘ اور ’’فیٹ کیٹ‘‘ ہیں۔
سکوئیزڈ مڈل
برطانیہ کے سابق وزیرِخارجہ، ایڈملی بینڈ نے سب سے پہلے ’’سکوئیزڈ مڈل  (Squeezed Middle) کی اصطلاح استعمال کی۔ اس سے مراد سخت محنت کرنے والا وہ متوسط طبقہ ہے جس کی اوسط آمدن مہنگائی، تنخواہ منجمد ہونے اور اخراجات بڑھنے کی وجہ سے مسلسل کم ہو رہی ہے، لہٰذا اس کا معیارِ زندگی بھی زوال پذیر ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک سال قبل جب ملی بینڈ نے یہ اصطلاح بولی تھی، تو ان کا مذاق اڑایا گیا لیکن اب امریکہ اوربرطانیہ کی بیشتر لغات میں یہ لفظ بالا بیان کردہ معنی کے ساتھ موجود ہے۔ چونکہ پوری دنیا میں متوسط طبقہ ہی سب سے زیادہ مہنگائی سے متاثر ہوا، لہٰذا یہ اصطلاح بہت جلد جڑ پکڑ گئی۔
فیٹ کیٹ
یہ اصطلاح امریکی و برطانوی کارٹونسٹ    (مزاحیہ خاکہ نگار) کو مرغوب ہے۔ وہ اپنے کارٹونوں میں موٹی تازی’’ فیٹ کیٹ (Fat Cat) یعنی موٹی بلی دکھاتے ہیں جو سگار پی رہی ہوتی ہے۔ یہ اصطلاح دراصل ان لوگوں کے لیے مستعمل ہے جو دوسروں کا استحصال کرکے مال بنائیں اور عیش کریں۔
2009 میں امریکی صدر اوباما نے ان بینکاروں کو موٹی بلی کہا جو خود کو بھاری بھر کم بونس سے نوازتے ہیں۔ تب یہ اصطلاح صرف نجی شعبے کے لیے مخصوص تھی، مگر اب بدعنوان سرکاری افسروں کو بھی موٹی بلی کہا جانے لگا ہے۔
امارت عام لوگوں کی نظر میں
یہ بحث بہت پرانی ہے کہ کیا دولت انسان کو خوشیاں بخش سکتی ہے؟ ایک عام نظریہ یہ ہے کہ اگر آپ کے سر پر چھت ہے، وافر غذا دستیاب اور محبت کرنے والا خاندان موجود ہے، تو آپ امیر ہوئے، چاہے زیادہ دولت نہ رکھتے ہوں۔ دولت بس اتنی ہونی چاہیے کہ آپ آرام و سکون سے اپنے اخراجات ادا کر سکیں۔اس سے زیادہ دولت پھر لالچ اور ہوس پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے۔
دوسرا نظریہ یہ ہے کہ بہت سی اشیا کی طرح دولت بذات خود کوئی خوبی یا خامی نہیں رکھتی، بلکہ اس کا استعمال اسے اچھا یا برا بناتا ہے۔ چنانچہ جو دولت مند بڑھ چڑھ کر فلاح و بہبود کی سرگرمیوں پر رقم خرچ کرے، وہ معاشرتی ہیرو اور من چاہی شخصیت کہلائے گا اور جو اپنی دولت پر سانپ بن کر بیٹھ جائے، اسے سبھی لوگ نفرت کی نگاہ سے ہی دیکھیں گے۔


No comments:

Post a Comment