Saturday, 9 February 2013

Articles

شام کے النصرہ فرنٹ سے مغرب خوفزدہ کیوں؟

ثروت جمال اصمعی شام میں بیالیس سالہ خاندانی آمریت کے خاتمے کے لئے بائیس ماہ سے جاری جدوجہد میں ایک سال پہلے منظر عام پر آنے والے النصرہ محاذ برائے اہل شام ( جبھة النصرہ لاہل الشام )کو امریکہ نے دسمبر کے دوسرے ہفتے میں القاعدہ سے تعلق کا الزام عائد کرتے ہوئے دہشت گرد قرار دیا تو اس کے بارے میں دنیا بھر میں تجسس بھی بڑھا۔اس سے پہلے یکم دسمبر کو واشنگٹن پوسٹ میں ڈیوڈ اگنیشس کی ایک رپورٹ ”القاعدہ سے وابستہ گروپ شامی بغاوت میں زیادہ بڑا کردار ادا کررہا ہے“ کے عنوان سے شائع ہوئی ۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ آزاد شامی فوج( فری سیرین آرمی ، مخفف :ایف ایس اے) کی صفوں میں جبھة النصرہ کے پرچم تلے لڑنے والوں کا تناسب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔رپورٹ میں ان کی تعداد چھ ہزار سے دس ہزار کے درمیان بتائی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق ایف ایس اے کی ایک زیادہ معتدل تنظیم کے ایک ذمہ دار نے بتایا کہ ایف ایس اے میں اب القاعدہ سے تعلق رکھنے والے جنگجووٴں کا تناسب ساڑھے سات سے نو فی صد کے درمیان ہے جبکہ تین ماہ پہلے یہ تناسب تین اور ایک سال پہلے صرف ایک فی صد تھا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کو بھیجی جانے والی رپورٹوں میں بتایا گیا تھا کہ نصرہ کے جنگجو ، جن پر القاعدہ سے تعلق کا شبہ ہے،فری سیرین آرمی کی دوسری تنظیموں کے سپاہیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہادری اور بے خوفی کے ساتھ لڑتے ہیں ، یہ لوگ ہمیشہ اگلی صفوں میں رہتے ہیں چنانچہ مرنے اور زخمی ہونے والوں میں ان کا تناسب دوسری تنظیموں کے افراد سے زیادہ ہوتا ہے۔ ان رپورٹوں میں امریکی قیادت کو خبردار کیا گیا تھا کہ شام کے مزاحمتی گروپوں میں النصرہ کی شکل میں انتہا پسند عناصر طاقتور ہورہے ہیں لہٰذا امریکہ کو احتیاطی تدابیر شروع کردینی چاہئیں۔ چنانچہ چند ہی روز بعد جبھة النصرہ کو دہشت گرد گروپ قرار دے ڈالا گیا۔ تاہم واقعاتی صورتحال سے پتہ چلتا ہے کہ جبھة النصرہ شامی عوام میں اپنی جرأت و شجاعت ، دیانتداری اور عوام کے مسائل کے حل کے لئے اپنی مخلصانہ اور موٴثر کوششوں کی وجہ سے سب سے زیادہ مقبول ہے اور لوگ اس پر پوری طرح اعتماد کرتے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک تازہ ترین رپورٹ اس حوالے سے نہایت چشم کشا ہے۔

بی بی سی کے پال وڈ کی اس رپورٹ میں النصرہ کے ابو لقمان کی عرفیت رکھنے والے ایک سینئر کمانڈر کے انٹرویو کے ساتھ ساتھ مجموعی ماحول کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے، اس سے النصرہ اور فری سیرین آرمی کے دوسرے گروپوں کی سرگرمیوں کے بارے میں بڑی قیمتی معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ پال وڈ لکھتے ہیں : ” گھپ اندھیرے اور منجمد کردینے والی سردی میں کئی گھنٹے بیکری کھلنے کے انتظار کے بعد قطار کے پہلے سرے پر کھڑے لوگ بے چینی کے ساتھ دکان کے دروازے پیٹنے لگے۔ایف ایس اے کا ایک کارکن مجھے بتارہا تھا کہ حلب میں باغیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں روٹی کی قلت ایک اور جرم ہے جو بشار الاسد کے سرتھوپا جارہا ہے۔ اس پرحجاب اور لمبے عبائے میں ملبوس ایک عمر رسیدہ خاتون اسے ایک طرف کرتے ہوئے بولی ”بشار کو الزام مت دو، جو کچھ ہمارے ساتھ ہورہا ہے، یہ ہمارا ہی کیا دھرا ہے“۔ جبکہ اس کے پیچھے فری سیرین آرمی کے جنگجو ہجوم میں نظم و ضبط قائم رکھنے کی کوشش کررہے تھے۔رپورٹ وضاحت کرتی ہے کہ ”حلب میں عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ روٹی کی قلت کا سبب فری سیرین آرمی کی جانب سے آٹے کی چوری ہے جو کسی دوسری جگہ فروخت کیا جاتا ہے۔“پال وڈ بتاتے ہیں کہ جب انہوں نے ایف ایس اے کے ایک اہلکار سے پوچھا کہ یہ کام بعض جنگجو انفرادی طور پر کرتے ہیں یا کمانڈروں کے حکم پر آپریشنوں کے لئے مالی وسائل کی فراہمی کی خاطر ایسا کیا جاتا ہے، تو اس نے کہا کہ یہ کام دونوں وجوہ سے کیا جاتا ہے اور اس میں خود میرا بریگیڈ بھی شامل ہے۔پھر وہ درد بھرے لہجے میں بولا ”ہم سب چور ہیں“۔

رپورٹ کے مطابق ان حالات کا فائدہ کٹر اسلامی عناصر خصوصاً جبھة النصرہ یا نصرہ فرنٹ کو پہنچ رہا ہے۔حلب کے مفتوحہ علاقوں میں بیکریوں کو آٹے کی تقسیم کی ذمہ داری اب انہوں نے سنبھال لی ہے۔پال وڈ کو بتایا گیا کہ نصرہ فرنٹ کے سوا لوگ کسی پر اعتبار نہیں کرتے جبکہ فری سیرین آرمی کے تمام بریگیڈ خود بھی ایک دوسرے پر الزامات لگاتے ہیں۔نصرہ فرنٹ دیانتداری اور نظم و ضبط کے حوالے سے اچھی شہرت رکھتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک جہادی گروپ بھی اور شام میں ہونے والے اکثر خودکش دھماکوں کا ذمہ داربھی ، لہٰذا امریکہ کی جانب سے اسے دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا گیا ہے۔ایک سال پہلے انٹرنیٹ پر جاری کی گئی ایک وڈیو کے ذریعے اس تنظیم نے دنیا کے سامنے اپنا تعارف کرایا تھا۔اس وڈیو میں ایک نقاب پوش شخص کہتا ہے ”ہم شامی مجاہد ہیں جو مختلف جہادی محاذوں سے واپس آئے ہیں،ہمارا مقصد زمین پر اللہ کی حکمرانی قائم کرنا اور عزتیں لوٹنے اور خون بہانے والے شامیوں سے انتقام لینا ہے“۔ نقاب پوش اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہتا ہے ” ہر آزاد اور شریف آدمی کولازماً ہتھیار اٹھالینے چاہئیں،چاہے اس کیلئے اسے اپنے گھر کا فرنیچر بیچنا پڑے، اے بہادر لوگو، جبھة النصرہ نے اس ملک میں امت مسلمہ کا ہتھیار بننے کی ذمہ داری اٹھالی ہے“۔

رپورٹ کے مطابق نصرہ فرنٹ کے کمانڈر ابولقمان سے پوچھا گیا کہ آپ خود کش حملوں کو کیونکر جائز سمجھتے ہیں جبکہ ان میں عام شہری بھی مارے جاسکتے ہیں تو انہوں نے کہا” یہ بات ہم پر صادق نہیں آتی، کیونکہ ہم خود کش حملے کا طریقہ استعمال کرتے ہیں، البتہ ایف ایس اے کی دوسری کئی تنظیمیں ایسا کرتی ہیں۔حکومت بھی ہم پر الزام تراشی کرنے اور ہماری نیک نامی کو نقصان پہنچانے کے لئے شہریوں کو کار بموں کا نشانہ بناتی ہے… جبکہ ہم کسی بھی شہری کی جان لینا نہیں چاہتے خواہ وہ مسلمان ہو یا غیرمسلم ، عیسائی ہو یا کچھ اور“۔

پوچھا گیا کہ ” امریکہ آپ کو دہشت گرد تنظیم کیوں کہتا ہے“ تو انہوں نے کہا ”مغرب میں مسلمانوں کو ظالم اور سفاک بنا کر پیش کیا جاتا ہے، مغرب ہمارے خلاف سازشوں میں مصروف ہے۔امریکہ نے ہمیں دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کردیا ہے تو اس سے ہمیں کوئی تکلیف نہیں،اس سے ہماری مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ شام کے لوگ امریکہ سے نفرت کرتے ہیں، ( اسلئے امریکہ کی طرف سے )دہشت گرد قرار دیئے جانے کو ہم اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں اور اس پر خدا کا شکر ادا کرتے ہیں“۔

اس سوال پر کہ کیا آپ القاعدہ کا حصہ ہیں؟ النصرہ کے لیڈر نے جواب دیا ”ہم دونوں ایک ہی زبان استعمال کرتے ہیں، ہماری اصطلاحات یکساں ہیں کیونکہ ہم سب عربی بولنے والے ہیں لیکن ہمارے درمیان ( جبھة النصرہ اور القاعدہ کے مابین)کوئی تعلق نہیں ہے۔ہم شامی ہیں“۔ پوچھا گیا کہ اگر امریکہ اور دوسری طاقتیں شامی حکومت پر بمباری کرنا چاہیں تو آپ کیا کہیں گے؟ جواب تھا ” بلاشبہ اگر وہ حکومت کی فوجی طاقت کو تباہ کریں تو یہ ہمارے حق میں ہوگا،لیکن ہم کوئی مداخلت نہیں چاہتے۔ ہم اس ملک کے لوگ ہیں اور اپنے وطن کا دفاع کرسکتے ہیں“۔ ابو لقمان نے اپنی تنظیم کی پوزیشن واضح کرتے ہوئے بتایا کہ ہماری جنگ شام تک محدود ہے، یہ کسی وسیع تر جہاد کا حصہ نہیں،ہم کسی ملک کے خلاف معاندانہ عزائم نہیں رکھتے جب تک کہ وہ اس حکومت کی تائید نہ کرے جس کے خاتمے کی ہم جدوجہد کررہے ہیں۔جبھة النصر ہ کے کمانڈر کا کہنا تھا کہ ہم کسی فرقے اور کسی اقلیت پر حملے نہیں کرتے، مسیحیوں کو ہم سے ہرگز خائف نہیں ہونا چاہئے۔

ہمارا مذہب ہمیں عیسائیوں میں شادی کرنے اور آپ کے ساتھ رہنے بسنے اور کھانے پینے کی اجازت دیتا ہے۔ ہمارے علماء نے اپنے فتووں میں عیسائیوں کی جانوں اور مالوں کو نقصان نہ پہنچانے کی تاکید کی ہے۔ حضرت عیسیٰ ہمارے پیغمبر بھی ہیں،آپ حضرت مسیح سے جتنی محبت کرتے ہیں، ہم ان سے اس سے بھی زیادہ محبت کرتے ہیں۔ بی بی سی کے نمائندے کے مطابق اس بات چیت کے دوران حلب کے شہری کمانڈر کے پاس اپنے مسائل لے کر آتے رہے۔ایک شخص نے چولہا جلانے کے لئے گیس نہ ملنے کی شکایت کی، ایک بوڑھا آدمی یہ شکوہ لے کر آیا کہ اس کے بچے اس ضعیفی میں بھی اس کی دیکھ بھال اور مالی مدد نہیں کرتے،ایک بیوہ مرحوم شوہر کے ورثے میں حصہ دلوانے میں مدد کی درخواست لے کر آئی کیونکہ شوہر کے خاندان والے اس کا حصہ دینے کو تیار نہیں تھے،ایک شخص اپنے قریبی عزیز کو ایف ایس اے کے کسی گروپ کی قید سے رہا کرانے میں مدد مانگنے آیا جسے بشار الاسد سے وفاداری رکھنے کے الزام میں اغوا کرکے رہائی کے لئے کئی ملین شامی پونڈ کا تاوان مانگا جارہا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ایف ایس اے کے مختلف گروپوں کی جانب سے ایسے واقعات کا ذکر عام ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ النصرہ فرنٹ نے تین دوسرے زیادہ اسلامی رجحانات کے حامل گروپوں کے اشتراک سے حلب میں ایک شرعی عدالت قائم کی ہے، جہاں باہمی تنازعات اور شکایات کے فیصلے ہوتے ہیں اور سرکاری عدالتوں کے مقابلے میں اس شرعی عدالت کی مقبولیت بہت نمایاں ہے۔النصرہ فرنٹ کے اس صاف ستھرے اور کھرے کردار اور اتنی عوامی مقبولیت کے باوجود مغرب کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ وہ شام میں خالص اسلامی حکومت کے قیام کا علمبردار ہے۔ فری سیرین آرمی میں سیکولر تنظیموں کی موجودگی کے باوجود یہ خطرہ بہت واضح ہے کہ بشار الاسد کے جانے کے بعد اس میں موجود النصرہ فرنٹ اور دوسری اسلامی تنظیمیں عوامی مقبولیت کی بنا پر سب کو پیچھے چھوڑ دیں گی ، جیسا کہ مصر اور تیونس میں ہوچکا ہے۔ایسی صورت میں اسرائیل کو شدید ناسازگار صورتحال سے سابقہ پیش آسکتا ہے اور مشرق وسطیٰ میں امریکی اور مغربی مفادات بھی خطرے میں پڑسکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے لئے کوئی فیصلہ کن قدم اٹھانے میں امریکی قیادت مسلسل پس و پیش کا شکار ہے۔

روس ، چین اور ایران اپنی سیاسی اور معاشی مصلحتوں کی خاطر اسد حکومت کے خاتمے کے مخالف ہیں جبکہ ایک اسرائیلی تجزیہ کار کے بقول بشار الاسد ایک معلوم برائی ہے جبکہ ان کے مخالفین کی حکومت ایک نامعلوم برائی ہوگی۔ اس طرح بیشتر عالمی اور علاقائی طاقتیں عملاً اسد حکومت کی پشت پناہ بنی ہوئی ہیں چاہے بظاہر مخالفت کررہی ہوں۔یہی وجہ ہے کہ شام کے 70 فی صد علاقے پر مخالفین کے کنٹرول کے باوجود چھ جنوری کو اپنے نشری خطاب میں بشار الاسد نے دعویٰ کیا کہ انہیں زندگی بھر کوئی اقتدار سے الگ نہیں کرسکتا۔ ان کے پاس فضائیہ کی طاقت موجود ہے اور انہیں اسلحہ کی سپلائی بھی مسلسل جاری ہے، اس تناظر میں دکھائی یہی دیتا ہے کہ شام میں ابھی حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت کا سلسلہ خاصی مدت تک جاری رہے گا اور بشار الاسد کی ظالم اور سفاک حکومت سے نجات شام کے لوگوں کو اپنی ہی جدوجہد کے بل پر حاصل کرنا ہوگی جس میں وہ کم از کم ساٹھ ہزار جانوں کی قربانی دے چکے ہیں جبکہ چالیس لاکھ شامی باشندے فاقہ کشی کے خطرے سے دوچار ہیں اور گھر بار سے محروم ہوچکے ہیں۔
 
 
 
 
 
اسرائیل فلسطینی اراضی ہتھیانے کی قانون سازی میں مصروف


اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے جس کا کام مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کو قانونی جواز فراہم کرنا ہےاور یہ ثابت کرنا ہے کہ اسرائیل کو قانون بین الاقوام اور دیگر کسی بھی عالمی قانون سے قطع نظر فلسطینیوں کی اراضی ہتھیانے کا پورا حق حاصل ہے۔
اسرائیل کی اس کمیٹی میں معتدل یہودی تلمودی عبادت کےانتہا پسند لیڈر جیسے ایڈمنڈ لیوی جیسے افراد شامل ہیں۔ لیوی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے 2005ء میں غزہ سے یہودی بستیاں ختم کرنے کی بھی مخالفت کی تھی۔ ان کا کہنا ہےکہ مغربی کنارہ حقیقی طور پر کوئی مقبوضہ علاقہ نہیں لہذا اسرائیلی حکومت کو اس علاقے کی اراضی پر قبضہ کرنے کا اختیار ہے تاکہ یہودی آباد کاروں کی درپیش اراضی کی ضرورت کو پورا کیا جا سکے۔ مشرقی القدس سمیت مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کو تاحال امریکا سمیت اقوام متحدہ نے تسلیم نہیں کیا ہے۔
اس کمیٹی کی تجاویز کو حتمی شکل دینے والے افراد کا تعلقا س صہیونی سوچ والے حلقے سے ہے جن کے نزدیک قدیم اسرائیل یا بابلی ریاست کا دائرہ کار سارے فلسطین، شام، لبنان اور مصر، عراق اور سعودی عرب کے کچھ حصوں سمیت مشرق وسطی کے اکثر حصوں پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کمیٹی کی جانب سے تیار کیے جانے ڈرافٹ کے تخلیق کار فاشسٹ بھی معلوم ہو رہے ہیں کیونکہ ان لوگوں نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی موجودگی پر دھیان ہی نہیں دیا بلکہ ایسا سمجھا جیسے یہاں کوئی فلسطینی بستا ہی نہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس کمیٹی کی رپورٹ میں فلسطینیوں کے حق میں صرف یہ تجویز دی گئی ہے کہ جو آرمی آفیسرز فلسطینیوں کی اراضی ہتھیانےکے معاملات نمٹائیں گے اور اس دوران یونیفارم کے بجائے سول کپڑوں میں ہونگے تاکہ ایک انصاف کا تاثر قائم رکھا جا سکے۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیلی گورنمنٹ کے حالیہ معیارات انصاف کے نام کے ساتھ ہولناک کھیل کے مترادف ہیں۔ لیکن اس میں کوئی اچھنبےکی بات نہیں، اسرائیل ہمیشہ سے اپنے رہنما اتحادی امریکا کے مکمل حمایت اور نہ ختم ہونے والے تعاون کے بل بوتے پر ایسا ہی رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ حقیقی تجزیہ یہی ہے کہ اسرائیل کا وجود ہی ایک بڑی جنگ اور انسانیت کے نام پر ایک بڑا جرم ہے۔ لہذا اسکے حالیہ معیارات کو بھی مجرم ریاست کی خصوصیات رکھنے والے ایک ایسے ملک کی جانب سے معمول کی کارروائی سمجھنا چاہیے جس کے اقدامات انسانیت کے بدترین جرائم شمارہوتے ہیں۔
بلاشبہ، اسرائیلی حکومت کی جانب سے یہودی آباد کاروں اور یہودی رہنماؤں پر مشتمل ایک کمیٹی کو یہ ٹاسک دینا کہ وہ فلسطینیوں کے حقوق بالخصوص ان کے زندگی اور بقا کے حوالے سے اختیار کا تعین کریں ایسا ہی گردانا جائےگا جیسا کہ جرمن کے نازی سخت گیر نازیوں کی ایک باڈی بنائے جو یہودیوں کے مسائل سےنمٹے۔
فلسطینیوں کے اراضی ہتھیانے کی قانون سازی یورپی اور خضری حملہ آوروں اور ایتھوپیا، انڈیا اور پیرو جیسے دور دراز ملکوں سے آنے والے زمین چور یہودیوں کو دینے سے یہ بات واضح ہو گئی ہے یہودی توسیع کا منصوبہ بھی ایسا ہی ہے جیسا جرمنی نازیوں کا تھا۔
اس ضمن میں صرف تفصیلات میں کچھ فرق ہے۔ جرمن مشرق میں رہنے کے لیے ایک وسیع اراضی کے خواہش مند تھے جبکہ فلسطینیوں کے اجتماعی قتل عام میں ملوث یہودیوں کا دعوی ہے کہ فلسطین کی سرزمین کی نسبت تین یا چار ہزار سال پہلے کے ہمارے آباؤ و اجداد سے ہے۔
کیا آپ میں سے کوئی بھی اپنے گھر کو اس بنا پر خالی کر دے گا کہ کوئی اجنبی آپ کے پاس آئے اور اس بات پر اصرار کرے کہ کئی ہزار سال قبل یہ گھر میرے آباء و اجداد سے متعلق تھا؟ جی ہاں یہی وہ سب کچھ ہے جو اسلحہ سے لیس اورکپا (یہودی ٹوپی) پہنے دہشت گرد گزشتہ چار دہائیوں سے کر رہے ہیں، یہ لوگ غیرمحفوظ فلسطینیوں کو دہشت کرتے ہیں، ان کی اراضی چھینتے ہیں اور عربوں کی موت کے نعرے لگاتے ہیں۔
کچھ برس قبل تک اسرائیلی ترجمان مغربی سفارتکاروں کو یہ بات کہتے تھے کہ حملہ آور یہودی آباد کار جذباتی لوگوں کا ایک چھوٹا سا گروپ ہےجو اسرائیل کی مجموعی سوچ اور اس کی عوام کی نمائندگی نہیں کرتا۔ لیکن اب یہ آبادکار اسرائیل کی روح اور اس کے پورے معاشرے کے ترجمان بن چکے ہیں، یہ نہ صرف اسرائیلی حکومت اور کنیسٹ کو مکمل طور پر کنٹرول کرتے ہیں بلکہ اسرائیلی آرمی اور پولیس پر قبضہ کر کے اسرائیل کو ایک حقیقی فاشسٹ ریاست بنانے پر قادر ہو چکے ہیں۔
مجھے غلط نہ سمجھیے، فاشسٹ کا لقب میرا نہیں ہے، کوئی دوسال قبل اسرائیل کیبنٹ کے ایک وزیر برملا اظہار کر چکے ہیں ’’ہم پہلے ہی ایک فاشسٹ ریاست میں رہ رہے ہیں، اسرائیل کا یہودی معاشرہ آہستہ آہستہ فاشزم کے مزید مکروہ حالت اور جذباتی قومیت کی پرتشدد صورت کی جانب دھکیلا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ غیریہودیوں اور ان آزاد خیال یہودیوں، جن میں ابھی تک انسانی اخلاق اور درستگی کی تھوڑی سی رمق باقی ہے، کے لیے انتہائی برا ہے۔
لیکن یاد رہے کہ ایسے فاشسٹ معاشرے، جو انسان کو بڑے خدا اور چھوٹے خدا کے بچوں یا روشنی یا اندھیرے کے بچوں میں تقسیم کیے رکھتے ہیں، کا حتمی مقدر ان کا خاتمہ اور زوال ہی ہوتا ہے۔
اسرائیلی رویہ فلسطینیوں کے ساتھ اتنا برا ہے کہ ہم اس مکمل طور پر اس زمانے کا نازی قرار دے سکتے ہیں، میں یہ دعوی نہیں کر رہا کہ اسرائیل نے ساٹھ لاکھ فلسطینیوں کو قتل کرد یا ہے۔ لیکن کیا نازی کا نفرت آمیز لقب پانے کے لیے ساٹھ لاکھ بے گناہوں کا قتل ہی لازم ہے؟ یہ بات ہے تو پھر سٹالن اور اس کے یہودی اتحادیوں نے ساٹھ لاکھ سے بھی کہیں زیادہ یہودیوں کو قتل کر دیا تھا مگر ہم اسے نازی نہیں کہتے۔
اس سب کے باوجود خاص لوگوں کے قومی وجود کو مٹانے کی اجتماعی کوشش ہی نازی پن ہے چاہے اس میں مخالفین کے مقتولین کی تعداد کتنی ہی ہو۔
مزید برآں، کسی بھی نسل، ثقافتی اور مذہبی  کمیونٹی کو اجتماعی طور پر مٹانے کی کوشش ویسے ہی ایک انتہائی سفاکانہ عمل بن جاتا ہے بالخصوص اس وقت بھی اپنے ان ناپاک کی انتہائی نسل پرستانہ توجہیات بھی بیان کی جاتی ہوں۔
یہ بات کہنے کی ضرورت نہیں کہ جہاں تک نسلی پرستانہ جارحیتوں کا تعلق ہے اسرائیل اور جرمن نازی ایک دوسرے کے مشابہ ہیں، جرمنی نےبھی  جرمن آقائی نسل اور طاقت کے  نظریے کے لاگو کیا۔ ادھر صہیونی بھی منتخب افراد کے نظریے کو استعمال کر رہے ہیں، اس نظریے کے مطابق یہودی خدا کے ایسے چنیدہ لوگ ہیں جنہیں غیر یہودیوں پر ظلم و استبداد کی پوری اجازت حاصل ہے، کیونکہ تمام غیر یہودی اپنی آقا نسل کے لیے بوجھ اٹھانے والے جانوروں کے طور پر پیدا کیے گئےہیں، کچھ کو باڈ یہودی مذہبی ربی یہ فتوی بھی جاری کر چکے ہیں کہ اگر کسی یہودی کو کسی انسانی عضو کی ضرورت ہو تو کسی بھی غیر یہودی کا قتل کرکے وہ مطوبہ عضو حاصل کرنا درست ہے۔
جرمن نازی آبادی میں توسیع کے باعث اراضی پر قبضے کی بات کرتے تھے جب کہ صہیونی یہودی بستیوں کی تعمیر و توسیع کا نعرہ بلند کیے ہوئے ہیں،اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی سرحد وہاں تک ہے جہاں اس کے ٹینک رک جائیں۔ غرض نازی ازم ہو یا صہیون ازم، ایک بڑی فوجی طاقت ہی دونوں کا حتمی خدا ہے۔
نازی ازم ختم ہو کر تاریخ کے کوڑے دان کا ایسا حصہ بن چکا ہے جسے سب بھول گئے ہیں، مجھے اس میں ذرہ بھر شک نہیں ہے کہ صہیون ازم بھی آخر کار اسی نتیجے سے دوچار ہوگا۔ تاریخ کے اوراق میں ستر سال کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔
اس دنیا جہاں ہر چیز کا انکار کیا جا سکتا ہے کچھ طاقتیں ایسی ہیں جن کا کبھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ زمین پر جہاں کوئی چیز یقینی نہیں ہماری لیے کچھ یقینی چیزیں ہوتی ہیں، اور اسرائیل کی قسمت میں تاریخ کا حصہ بن جانا ہی یقینی امر ہے۔ 


 
اسرائیل، انسانیت کا مجرم


یہ ایک حقیقت ہے کہ مغربی میڈیا کا بڑا حصہ شاید آسمانی مذاہب کی مخالفت کے طعنے کے خوف سےاسرائیلی جرائم کو منظر عام پر لانے سے پرہیز کرتا ہے۔ یورپ اور شمالی امریکا کے کروڑوں لوگ اب بھی یہودی ریاست کی برائیوں سے بے خبر ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ مغرب میں لوگوں کی اکثریت اب بھی اس جھوٹ پر یقین کیے ہوئے ہے کہ اسرائیل شہری آزادیوں اور انسانی حقوق کے بنیادوں کی علمبردار ایک جمہوری ریاست ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ اسرائیلی انتہاء پسند اور ہٹ دھرم نمائندے صہیونی جرائم اور غلط کاروں کی توجیہ پیش کرتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ زمینی حقائق اس سے کہیں زیادہ بدتر اور خوفناک ہیں جیسا کہ لوگ اسرائیل کے بارے میں سوچتے ہیں۔
معاملہ یہ ہے کہ ادارتی ظلم و ستم، نسلی پرستی اور اپنے ہم وطن فلسطینیوں کے خلاف دہشت گردی کو قانون کے دائرے میں لانا یا قانونی دائرے میں لانے کی کوشش کرنا اسرائیل کی ایک عادت ہے۔
اسرائیلی پروپیگنڈے کے بے لگام گھوڑے اصل معاملے سے توجہ ہٹانے کے لیے ہزاروں جھوٹ اور ہزاروں خوش نما نعرے سامنے لائیں گے۔ یہ لوگ ہولوکاسٹ، آشوٹز، برجن بیلسن، عیسائیت کی یہودی بنیاد اور دیگر کئی غیر متعلقہ مسائل بیان کرتے ہیں جس کا مقصد اسرائیلی کارروائیوں کی توجیہ بیان کرنا ہوتا ہے بلکہ زیادہ درست طور پر اس زمانے کی نازی طرز کی اس ریاست سے جڑے بدترین حقائق سے توجہ ہٹانا ہوتا ہے۔
وہ پہلے سے غلط معلومات میں گھرے اور دھوکے میں مبتلا مغربی اقوام کو قائل کرنے کے لیے سچائی اور زبان کے ساتھ بدترین کھلواڑ کرتے ہیں اور مغرب کو یہ سمجھا دیتے ہیں کہ اسرائیل کیلئے ایسا ظالمانہ رویہ اپنانا اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
اس سب کے باوجود جو شخص سفید کو سفید اور کالے کو کالا کہنا چاہتا ہے ا سکے لیے سچائی بڑی سادہ رہتی ہے۔ درست اور غلط کی پہچان کا یہ عمل اگرچہ انتہائی مشکل ہے مگر ناممکن نہیں اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ کسی کے اندر ایمانداری اور راست بازی کس حد تک ہے۔
میں یہ بات اس لیے کر رہا ہوں کیونکہ اسرائیلی کی حمایت کرنے والوں کی اکثریت بدترین جھوٹوں کی ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ یقینی طور پر بالکل اسی طرح ظلم اور برائی کا ساتھ دے رہے ہیں جیسے اسرائیلی امریکا کا ساتھ دے کر ایسا ہی کر رہے تھے۔
ہم اس افسوسناک حقیقت کو نہیں جھٹلاتے کہ خطے میں دیگر اسی حکومتیں بھی موجود ہیں جو اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے اپنے ہی ہم وطنوں پر ظلم ڈھا رہی ہیں اور ان کی خونریزی کر رہی ہیں، تاہم ان حکومتوں کی جارحیت دوسروں کو چاہے کتنی ہی ترغیب دینی والی کیوں نہ ہو اس سے اسرائیل کا چہرہ خوبصورت نہیں ہو سکتا۔
اسرائیل ہزاروں لاکھوں لوگوں کو صرف اس وجہ سے ظلم و ستم کا نشانہ صرف اس لیے بنا رہا ہے کہ ان کا تعلق یہودی مقدس قبیلے سے نہیں ہے۔
اسرائیل نے فلسطینیوں کی اراضی پر ڈاکہ ڈالا، ان کے گھرں کو تباہ کیا، گاؤں کے گاؤں ملیامیٹ کردیے، ان کے فصلیں نذر آتش کردی، ان کو ملک کے چاروں اطراف ہجرت پر نہ صرف مجبور کیا بلکہ سات ہی ساتھ اس نے یہودی جمہوریت، اخلاقیات اور بہترین قابلیت کی پروپیگنڈا بھی کامیابی سے کیا۔
اس ہفتے لندن سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے دنیا بھر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر سنہ 2012ء کی سالانہ رپورٹ پیش کی۔
اس عالمی ادارے نے اسرائیل پر پرتشدد کارروائیوں، اذیت ناک ظلم و ستم، لوگوں کی نقل و حرکت روکنے، آزادی اظہار رائے پر قدغن لگانے، لوگوں کو بغیر کسی فرد جرم طویل عرصے تک زیر حراست رکھنے اور غزہ کی پٹی میں بسنے والے سولہ لاکھ فلسطینیوں کا ناجائز محاصرہ کرنے کا الزام عائد کیا۔
معاملے کی حقیقت یہ ہے کہ اسرائیلی انسانی حقوق حتی کہ بعض انتہائی ذمہ دار اور قابل اعتبار اداروں کی بظاہر اکیڈمک رپورٹیں بھی اسرائیلی ریاست کی بدصورتی کو مکمل طور پر سامنے لانے کے لیے ناکافی ہیں۔ حقیقی تجزیہ یہ ہے کہ اسرائیلی اس وقت نسل پرستی، فاشزم، ظلم اور دہشت گردی کی گہری دلدل میں پھنستا جارہا ہے۔ کچھ ماہ قبل اسرائیلی کیبنٹ کے ایک وزیر اعلان کر چکا ہے ’’ہم تو پہلے ہی ایک فاشسٹ ریاست ہیں‘‘
ستر کی دہائی اور اسی کی دہائی کے اوائل میں جب میں اوکلوہاما یونیورسٹی میں پڑھ رہا تھا جب باپٹزم سے تعلق رکھنے والے ایک عیسائی وزیر نے یہ بیان دیا تھا کہ خدا یہودیوں کی دعائیں اس لیے نہیں سنتا کیونکہ وہ حضرت عیسی علیہ السلام کو نہیں مانتے، اس بیان کے بعد یہودی حلقوں نے احتجاج تحریک چلا کر ایسا کہرام برپا کیا کہ اس عیسائی وزیر کو اپنے بیان پر معافی مانگنا پڑی۔
آج بھی اسرائیل میں ایسے معروف سیاست دان اور ممتاز یہودی مذہبی رہنما موجود ہیں جو غیر یہودیوں کو انسانی شکل میں پیدا ہونے والے گدھے قرار دیتے ہیں جن کی زندگی کا کوئی احترام نہیں اور انہیں کسی طرح کے انسانی وقار کا حق بھی حاصل نہیں ہے۔ بہت سے ایسی یہودی مذہبی پیشوا (ربی) ہیں جو اسرائیلی ڈاکٹرز کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ ہفتے کے روز ٹریفک حادثے کے زخمی ہونے والے کسی بھی غیر یہودی کو مرنے کے لیے چھوڑ دیں اور اس کا علاج بالکل نہ کریں۔
حتی کے بعض ایسے یہودی ربی بھی موجود ہیں جو یہودیوں کو اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ اگر کسی یہودی کو کسی انسانی عضو کی ضرورت ہو تو اس کے لیے کسی بھی غیر یہودی کو مارا جا سکتا ہے۔
بدقسمتی سے اسرائیل میں اس طرح کے گھٹیا اسکینڈلز پر بہت کم نظریں بلند ہوتی ہیں۔ یہ سب اس وقت ہورہا ہے جب یہودی رہنما معمول کے مطابق اسرائیلی رہنما ہر اسرائیلی جرائم  کا ذکر کرنے والے ہر شخص پر حسب سابق نفرت اور اخلاقی حدود سے تجاوز کا الزام لگا رہے ہیں۔
لیکن کیا ہوگا؟ جب تک امریکا، اسکی حکومت، کانگریس، میڈیا یہودیوں کے جیب میں ہیں انہیں خوف زدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انتہائی طاقتور اور بلیک میل کرنے والی یہودی لابی امریکی سیاستدانوں کو ایک ایسے سیاسی مہروں میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں جو اسرائیل کے ایک اشارے پر کچھ بھی کرنے کو تیار رہتے ہیں۔
لچسپ امر یہ ہے کہ اس سب کا اسرائیل پر بڑا گہرا اثر پڑا ہے۔ کچھ سال پہلے یہ افواہ گردش میں تھی کہ سابق اسرائیلی وزیر اعظم ایریل شیرون نے اس وقت کے وزیر خارجہ شمعون پیریز کو ایک موقع پر یہ کہ کر خاموش کرایا تھا ’’اسرائیل پر امریکی دباؤ کے بارے میں پریشان نہ ہو، ہم امریکی عوام اور ان احمق امریکیوں کو کنٹرول کرلیتے ہیں، سمجو اسے‘‘
اس سب کے باوجود اسرائیل کی حکمران اشرافیہ طبقہ ایسا رویہ اپناتے ہوئے دکھائی دیتا ہے کہ اسرائیلی جتنا جرائم پیشہ اور خونخوار ہوتا جائے گا، غیروں کے پیچھے چلنےوالے واشنگٹن کی جانب سے اسرائیل کی مدد اور حمایت میں بھی اضافہ ہوتا رہیگا۔
سیاسی سماجیات اور سیاسی نفسیات کے نقطہ نظر سے اس منفرد صورتحال کو بیان کرنا انتہائی مشکل ہے۔ تاہم امریکی تابعداری کی اس صورتحال کی صرف یہ توجیہ کی جا سکتی ہے کہ اسرائیل یہودی دولت اور طاقت نے امریکی سیاسی ثقافت کو اس حد تک آلودہ کردیا ہے کہ امریکا اب اس گندگی کے شرمناک دلدل میں دھنستا جا رہا ہے جو یقینی طور پر کوئی بڑی ڈرامائی بات نہیں ہے۔
اس بات میں ذرہ بھر شک کی گنجائش نہیں ہے کہ فلسطینی عوام اس وقت تک خود کو نازی طرز کے صہیونی شکنجے سے آزاد نہیں کرا سکیں گے جب تک امریکا صہیونی دنیا کا بے دام غلام بنا رہے گا اور صہیونی طاقتوں کے ہاتھوں میں کھیلتا رہے گا۔
یہ خدشات بھی بجا ہیں کہ صہیونی قوتیں شاید جلد ہی چین کے ساتھ بھی اتحاد کرلیں گی کیونکہ مستقبل میں چین دنیا کی سپر پاور اور امریکا دوسرے یا تیسرے درجے کی قوت کے درجے پر فائز ہونے جا رہا ہے۔
کچھ بھی ہو دنیا کے اندر امن اور استحکام کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر رہیگا کہ عالمی کمیونٹی کینسر کی طرح بڑھتے والے اس صہیونزم کو کنٹرول کرنے کے لیے کتنا پختہ ارادہ رکھتی ہے اور کس حد تک اس پر قابو پانے کی صلاحیت کی حامل ہے۔
یہ بات یقینی ہے کہ اسرائیل کبھی بھی انصاف اور امن کے لیے ٹھوس بنیادوں پر سرگرم عالمی قوتوں کے سامنے سفید پرچم نہیں لہرائے گا۔ بلاشبہ صہیونی قوتیں اس بارے میں انتہائی طاقتور اور مغرور ہیں۔ تاہم عالمی کمیونٹی کی جانب سے اس نازی طرز کی صہیونی حاکمیت کو کنٹرول کرنے کے ارادے سے ایک معنی خیز تبدیلی ضرور رونما ہوگی اور اسرائیل کو دنیا کا امن تباہ کرنے اور بے گناہ انسانوں کے کسی بھی قتل عام سے پہلے ٹھہر کو سوچنا ضرور پڑے گا۔
مجھے اس بات میں ذرا تامل نہیں ہے کہ ایک دن اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹنا ہے، مجھے نہیں معلوم کہ یہ مبارک دن کب ہوگا تاہم اتنا ضرور کہ سکتا ہوں کہ ایسا بعض لوگوں کے خیال کی امیدوں سے کافی پہلے ہوجائیگا۔ اسرائیل برائی اور ظلم کی بنیاد پر قائم ہے اور خود اپنی تباہی کے بیچ بو رہا ہے۔ 


No comments:

Post a Comment